12 ستمبر 2012 - 19:30

توہين آميز امريکي فلم ميں کام کرنےوالي ايک اداکارہ نے دعوي کيا ہے کہ مذکورہ فلم کي تياري کے وقت اسکا مذہب سے کوئي تعلق نہيں تھا اور توہين آميز ڈائيلاگ بعد ميں اصل ڈائيلاگ کے بدلے شامل کئے گئے ہيں-

ابنا: رشيا ٹو ڈے کے مطابق توہين آميز فلم ميں کام کرنے والي ادا کارہ نے اس  بات کا انکشاف کيا ہے کہ فلم کے پروڈيوسر نے جہاں پيغبر اکرم کي تصوير کشي کرکے آپ کي ذات اقدس کي توہين کي ہے وہيں اس نے ڈبنگ کے دوران فلم کے ڈائيلاگ تبديل کرديئے ہيں-مذکورہ ادا کارہ کے بقول فلم ميں کام کرنے والوں کو پرڈيوسر کي نيت کے بارے ميں علم نہيں تھا کہ وہ فلم سے کيا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے- اس رپورٹ کے مطابق توہين آميز ڈائيلاگ فلمبندي کے وقت ريکارڈ نہيں کئے گئے بلکہ پروڈيوسر اور ہدايتکار نے بعد ميں انہيں اصل ڈائيلاگ سے بدل ديا ہے- فلم ميں کام کرنے والے فنکاروں کي جانب سے جاري ہونے والے بيان سے ظاہر ہوتا ہے کہ  فلم بنانے والوں نے ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کي کوشش کي ہے-اداکارہ  سنڈي لي گارشيا نے کہا ہے کہ ايسي کوئي بات نہيں تھي کہ  ہم کوئي مذہبي فلم بنانے جارہے ہيں بلکہ کہا يہ گيا تھا  کہ مصر کے ماضي کي منظر کشي کرنا چاہتے ہيں-  مذکورہ اداکارہ کے بقول  اس فلم ميں پيغمبر اسلام صل اللہ عليہ وآلہ وسلم  اور اسلام کے بارے ميں جوکچھ بھي آيا ہے وہ فلمبندي کے بعد اس ميں اضافہ کيا گيا ہے- سنڈي کے بقول اس فلم کا نام جنگجويان  صحرا  تھا اور يہ واقعہ پيغمبر اسلام کي ولادت سے ايک ہزار سال پہلے کا تھا-اس فلم کا ڈائريکٹر سام باسل نامي شخص ہے جو اب روپوش ہوگيا ہے- خود کو اسرائيلي يہودي کہنے والے اس شخص کا دعوي ہے اسکي فلم اسلام کي مذمت ميں ايک سياسي بيان کي حیثيت رکھتي ہے-...../169